About
حافظ غلام مصطفیٰ سن ۱۹۶۸ء میں گاؤں سونو پتافی نزد خانپور مہر ضلع گھوٹکی میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کی، اور دینی علوم میں مصروف ہوا، اور گھوٹکی مدرسہ بدر العلوم میں قرآن مجید حفظ کرنے کے لئے کچھ عرصہ گذارا، اس کے بعد عربی دینی علوم میں داخل ہوئے، مولانا نثار احمد پتافی گاٶں لنڈی ٹوڑی نزد خانپور مہر میں کافی کتابیں پڑھ لیں، ان کے بعد کچھ کتب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں پڑھیں اور کچھ مولانا سلیمان صاحب سکھروالے کے پاس ادبی اور اصولِ حدیث کی کتابیں پڑھیں، ان کے بعد تقریباً سن ۱۹۸۴ء میں محب اللہ شاہ صاحب کے جامعہ راشدیہ سے علومِ دین سے فراغت حاصل کی اور سند الفراغ ملی، اور گوٹھ شیر محمد ٹھوڑھا ، پھر صادق آباد پھر چک نمبر 42 نزد رحیم یار خان میں امامت و خطابت کے کام سرانجام دیئے۔ جب کہ ابتدائی دور میں حکمت و عملیات کا بہت شوق رہا، سن ۱۹۸۰ء سے مختلف طبی نسخے بناتا آیا اور کتبِ طب کا مطالعہ کرتا آیا، اور سن ۱۹۹۰ء میں میٹرک بھی، اسی شوق میں کیا کہ طب کا کورس کریں گے، اس وقت لاڑکانہ اور موروسندھ میں حکمت کے کالج بن رہے تھے۔ تو حافظ نے میٹرک کے بعد مسلسل ایف اے، بی اے، ایم اے عربی، ایم اے اسلامیات، ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کرلی۔ اور ساتھ ساتھ ۱۹۹۸ء میں حکمت کا کورس کر کے سندھ طبیہ کالج حیدرآباد کے ذریعہ یونین کاؤنسل فارطب سے چار سالہ ڈگری حاصل کرلی۔ اور مختلف مقامات پر کلینک کھولی جیسے راولپنڈی، اوکاڑہ، بہاولپور، صادق آباد، گھوٹکی، خانپور مہر۔
اور حکمت کی فیلڈ میں انسانیت کی ہمدردی خاطر آسان سستے اور پیچیدہ و خطرناک امراض کے علاج دریافت کئے اور تمام نسخوں میں ماشاءاللہ کامیابی حاصل کی۔ اور ساتھ ساتھ عملیات کے میدان میں بھی کافی کام کیا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حکمت اور عملیات سے بہت لوگوں کو نفع پہنچا، اور علم کیمیا سے دلچسپی ہوئی اس کو تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔ حافظ حفظہ اللہ ابھی تک بقیدِ حیات ہیں اور عمر 54 سال کے لگ بھگ ہے اور امامت و خطابت، تصنیف وتالیف، حکمت و عملیات اور مختلف فنون پر مطالعہ جاری ہے۔ اور انٹرنیٹ کے ذریعہ ہر علم و ہر ہنر کی کتب کمپیوٹر میں محفوظ کر رکھی ہیں اور اپنی ذاتی لائبریری بھی موجود ہے۔ حکمت کی قدیم و جدید آٹھ سو کے لگ بھگ اور عملیات کی قدیم وجدید کتب آٹھ سو کے لگ بھگ کمپیوٹر میں محفوظ ہیں۔
*کچھ کتاب کے متعلق*
اس کتاب میں حکمت کے خاص وہ نسخے لکھے گئے ہیں جو حافظ ڈاکٹر حکیم غلام مصطفیٰ نے خود بنائے اور مریضوں کو دئیے اور بعض نسخے احباب سے دستی ملے اور کچھ انٹرنیٹ سے لئے جن پر یقین تھا، اور کچھ نسخے معتبر طبی کتب سے اخذ کئے ہیں۔