گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کی انفیکشن
ایپیگیا ریپینس (Epigaea Repens)
یہ گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے امراض کے لیے مخصوص دوا ہے۔ اس کی اہم علامات میں پیشاب کا بے اختیار اخراج (Incontinence)، پیشاب کرتے وقت درد (Dysuria)، گردے کی پتھری (Renal Calculi) اور مثانے کی سوزش (Cystitis) شامل ہیں۔
بیلاڈونا (Belladonna)
اس دوا میں درد اچانک اور بہت تیز ہوتا ہے، خاص طور پر دائیں جانب۔ ہلنے یا جھٹکے لگنے سے درد بڑھتا ہے۔ چہرہ سرخ جبکہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ پیشاب میں خون آسکتا ہے اور مریض بے انتہا بے چین رہتا ہے۔
بیربیرس (Berberis Vulgaris)
اس کی خاص علامت گردوں سے مثانے اور پھر پیشاب کی نالی کی طرف جانے والا تیز چبھتا ہوا درد ہے، جس کے ساتھ پیشاب کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ درد ایک مرکز سے نکل کر چاروں طرف پھیلتا ہے۔ پیشاب کی نالی میں بلبلوں کے اٹھنے جیسی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ ذرا سی حرکت سے درد بڑھ جاتا ہے اور آرام کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہ جوڑوں کے درد (Rheumatism) میں بھی مفید ہے۔
سارساپریلا (Sarsaparilla)
یہ دوا اس وقت دی جاتی ہے جب گردے کی پتھری اتر کر مثانے میں آجائے اور درد صرف مثانے میں ہو۔ پتھری آپریشن سے نکلوانے کے بعد بھی یہ مفید ہے۔ نم اور سردی لگنے سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ پیشاب میں ریت یا بلغم آسکتی ہے۔ بچے پیشاب کرتے وقت بہت روتے ہیں کیونکہ پیشاب کرنا نہایت دردناک ہوتا ہے۔
نکس وومیکا (Nux Vomica)
اس دوا میں درد شدید ہوتا ہے اور مریض بہت بے صبرا ہوجاتا ہے۔ پیشاب یا پاخانے کی خواہش کے ساتھ درد بڑھتا ہے۔ مریض بے چین، چڑچڑا اور سردی کا احساس رکھتا ہے۔ درد کے دوران کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ پیشاب کی نالی میں اینٹھن (Spasms) ہونا اس کی خاص علامت ہے۔ گرمی سے آرام اور سردی سے تکلیف بڑھتی ہے۔
بینزویک ایسڈ (Benzoid Acid)
یہ دوا بائیں جانب کی پتھری کے لیے مفید ہے۔ پیشاب کا رنگ گہرا بھورا، گاڑھا اور بدبودار ہوتا ہے، جو گھوڑے کے پیشاب جیسا محسوس ہوتا ہے۔
کیلکاریا کارب (Calc Carb)
اس دوا کا استعمال ان مریضوں میں ہوتا ہے جن کے جسم میں پتھری بننے کا رجحان (Tendency) ہو، خاص طور پر جب وہ ذہنی دباؤ (Stress) میں ہوں۔
کالی کارب (Kali Carbonicum)
بائیں جانب گردے کی پتھری میں مفید۔ درد سلائی چبھنے جیسا (Stitching) ہوتا ہے۔ سردی اور ٹھنڈی ہوا سے تکلیف بڑھتی ہے، اور رات 2 سے 4 بجے کے درمیان درد زیادہ ہوتا ہے۔
لیچیس (Lachesis)
بائیں جانب گردے کا شدید درد، خاص طور پر رات کے وقت۔ مریض نیند سے درد اٹھنے لگتا ہے۔ چھونے یا دباؤ سے درد بڑھتا ہے اور تنگ کپڑے برداشت نہیں ہوتے۔ پتھری کی وجہ سے سیاہ رنگ کا خون آسکتا ہے۔
لائیکوپوڈیم (Lycopodium)
یہ دوا دائیں جانب کے درد کے لیے ہے، جو شام 4 سے 8 بجے کے درمیان بڑھتا ہے۔ مریض کو تنگ کپڑے پسند نہیں آتے اور گرمی سے آرام ملتا ہے۔ ایسے مریض پریشان رہتے ہیں اور کسی کا سہارا چاہتے ہیں۔
کینتھرس (Cantharis)
گردے میں درد اور پیشاب کرتے وقت اینٹھن (Tenesmus)۔ پتھری کے ساتھ انفیکشن ہو تو مریض جنونی حالت میں چلا جاتا ہے اور پیشاب کرتے وقت شدید جلن ہوتی ہے۔ پتھری گرتے وقت پیشاب کی تقریباً مسلسل خواہش رہتی ہے۔
کولوسنتھ (Colocynth)
یہ درد شدید مروڑ (Cramping) کی صورت میں ہوتا ہے۔ مریض بے چین رہتا ہے۔ دبانے یا گرم سینکائی سے آرام آتا ہے اور دائیں جانب درد زیادہ ہوتا ہے۔ یہ درد اکثر غصہ کھانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
ڈائیسکوریا (Dioscorea)
درد میں کمر کو پیچھے کی طرف کھینچنے (Extending back) سے آرام آتا ہے۔ یہ عام طور پر دائیں جانب استعمال ہوتی ہے۔
نائٹرک ایسڈ (Nitric Acid)
گردے میں تیز چبھتا ہوا درد۔ پیشاب گہرا، بدبودار اور ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔ رات کو بار بار پیشاب کی خواہش ہوتی ہے مگر مقدار بہت کم نکلتی ہے۔ مریض اپنی صحت کے بارے میں بہت پریشان رہتا ہے اور چڑچڑا پن اس کی خاص علامت ہے۔
پیریرا براوا (Pareira Brava)
بائیں جانب گردے کا درد جو ران کی طرف جاتا ہے۔ پیشاب کی مسلسل خواہش اور زور لگانے کے باوجود پیشاب رک کر آتا ہے۔ خاص علامت: مریض صرف اس وقت پیشاب کر سکتا ہے جب وہ گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل (فرش پر) لیٹ جائے اور پیشانی فرش سے لگی ہو۔ آدھی رات سے صبح تک درد زیادہ ہوتا ہے۔
ٹبیکم (Tabacum)
گردے کے درد کے ساتھ موت جیسی متلی (Deathly nausea) محسوس ہوتی ہے۔ پیشاب کی نالی (Ureter) میں شدید درد ہوتا ہے۔
گردے کی پتھری کا مجرب ہربل علاجاجزاءقلمی شورہ اصلی...
گردے کی پتھری کا مجرب یونانی علاجاجزاءمیتھرے — 100...
گردے کے درد کے لیے زندگی بھر کا علاجمجربھوالشافی ۔...
درد گردہ کے لیے دی بیس ہربز کی خاص ہربل ریمیڈییہ ر...
پتھرچٹہ چورن گردہ کی پتھری اور گردہ کے درد کے لیے...